شوگر ملز کا موجودہ قیمت پر چینی کی برآمد سے انکار


عالمی منڈی میں قیمتیں کم سطح پر آنے کے بعداضافی چینی کی برآمد خطرے میں پڑ گئی پیداواری لاگت بھی نہیں مل رہی، حکومت چینی کی برآمد میں سنجیدہ ہے تو سبسڈی دے کسانوں کو 25ارب ادا کرنے ہیں، شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید کیانی کی گفتگو
عالمی منڈی میں چینی کی قیمتیں کم ترین سطح پر آنے کے بعد پاکستان سے 4 لاکھ ٹن اضافی چینی کی برآمد خطرے میں پڑ گئی ہے ، رواں برس کے آغاز میں انٹرنیشنل مار کیٹ میں قیمتیں سوا پانچ سو ڈالر تک تھیں جو مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں،پاکستان میں گزشتہ برسوں کے بفرا سٹاک اور 2017 ء کے کرشنگ سیزن کے بعد ملک میں چینی کے ذخائر 72 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئے تھے ، جو چینی کی 51 لاکھ ٹن مقامی کھپت سے تقریباً20 لاکھ ٹن زیادہ ہیں،صورتحال کے باعث حکومت نے چینی کا مخصوص کوٹہ برآمد کرنے کی اجازت تو دے دی ہے تاہم پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومتی اجازت نامہ مسترد کرتے ہوئے موجودہ قیمتوں پر چینی برآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے ، شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ برآمد کنندگان کیلئے اس قیمت پر چینی ایکسپورٹ کرنا ممکن نہیں ہے ، کیونکہ ملز مالکان نے گنے کے کاشتکاروں کو حکومت کے مقررہ نرخوں 180 روپے فی من کے حساب سے ادائیگیاں کی ہیں، اس وقت عالمی منڈی میں قیمتیں 400 ڈالر فی ٹن کے قریب ہیں اور اس قیمت پر چینی کی ایکسپورٹ ممکن نہیں کیونکہ موجودہ نرخوں پر شوگر ملز مالکان کو ان کی پیداواری لاگت بھی نہیں مل رہی، اگر حکومت اضافی چینی ایکسپورٹ کرنے میں سنجیدہ ہے تو شوگر ملز مالکان کو سبسڈی دی جائے ۔ اس حوالے سے’’دنیا‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید کیانی نے کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں چینی برآمد کرنے کیلئے حکومت سبسڈی دے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاکستان اضافی چینی کے بحران میں پھنس گیا ہے ۔چیئرمین پی ایس ایم اے کے مطابق اضافی چینی کے بحران کے نتیجے میں کاشتکاروں کی ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں اور ملوں نے ابھی تک کسانوں کو 25 ارب روپے ادا کرنے ہیں،اگر حکومت اضافی چینی ایکسپورٹ کرنے میں سنجیدہ ہے توبرآمد کنندگان کو سبسڈی دی جائے ۔