بجٹ سپورٹ قابل تعریف پولٹری سیکٹر کی ترقی کیلئے مزید اقدامات نا گزیر,ایسوسی ایشن


پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے موجودہ حکومت کے بجٹ اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ 2017-18ء میں حکومت کی سپورٹ قابل ستائش ہے ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے مشیر ریونیو ہارون اختر نے انڈسٹری کے معاملات کو درست انداز سے سمجھا ہے اور اقدامات سے صنعت کو جدید بنانے اور ترقی دینے میں مدد ملے گی،تاہم بجٹ میں پولٹری صنعت کی سپورٹ کے باوجود اس کی ترقی کیلئے کافی اقدامات ناگزیر ہیں،گرینڈ پیرنٹ اسٹاک اور پیرنٹ اسٹاک پر درآمدی ڈیوٹی کی کمی پولٹری انڈسٹری کیلئے مددگار ثابت ہوگی، اسی طرح ہماری درخواست پولٹری فارمنگ مشینری پر سیلز ٹیکس کو ایگری کلچر گرین ہاؤس ٹنل فارمنگ کے برابر لانا، پوری طرح منظور نہیں کی گئی تاہم سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی ہے اور اس سے انڈسٹری کو جدید بنانے میں مدد ملے گی،پولٹری سیکٹر کی ویلیو ایڈیشن، پراسسنگ مصنوعات کی سپورٹ کیلئے درخواست بھی زیر غور نہیں لائی گئی حالانکہ ان مصنوعات کو ایف ٹی اے اور ایم ایف این کے تحت سیلز ٹیکس فری مصنوعات سے شدید خطرات ہیں ۔انڈسٹری سے یہ توقع کرنا غیر منصفانہ ہوگا کہ وہ FTA اور MFN کے تحت ملائیشیا، بھارت اور چین سے بالترتیب 0، 5اور 10فیصد کسٹم ڈیوٹی پر امپورٹ کیے جانیوالے پراسسنگ چکن میٹ کا مقابلہ کرسکے ، اس کے برعکس ہمارے اِن پٹ ریٹ جو ان مصنوعات کو پیدا کرنے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں، بالترتیب 36.90 فیصد سے 58.40 فیصد تک پہنچ گئے ہیں جس میں 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی، 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، 17 فیصد سیلز ٹیکس ہے ،ویلیو ایڈیشن صنعت کی اہمیت کو ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے ، تاہم لائیو اسٹاک اور زراعت میں اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔