چاول کی فصل کے لئے کسانوں کو نیا مفید بیج دستیاب


جی ایس آر8بیج سے فی ایکڑپیداوار 100سے 115من تک حاصل ہوسکے گی کھاد ، پانی کے اخراجات بھی کم ہو ں گے ،سابق چیئرمین ریپ رفیق سلمان
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے سابق چیئرمین رفیق سلمان کی کوششوں سے چاول کی فصل اگانے والے کسانوں کو نیا مفید بیج دستیاب ہوگیا ہے جس کے استعمال سے چاول کی فی ایکڑ پیداوار 100 سے 115 من تک حاصل ہوسکے گی۔ ریپ کے سابق چیئرمین رفیق سلیمان کی قیادت میں 2 سال قبل ریپ کا ایک وفد فلپائن کے دورے پر گیا تھا جہاں وفد نے فلپائن میں تعینات پاکستانی سفیر صفدر حیات کے ہمراہ انٹرنیشنل رائس ریسرچ اینڈ انسٹی ٹیوٹ (اری 6)کا دورہ کیاجہاں سے رفیق سلیمان چاول کی نئی قسم GSR-8 کے بیج پاکستان لائے ، یہ بیج نیشنل انسٹی ٹیوٹ بایو ٹیکنالوجی اینڈ جینٹک ا نجینئر نگ کے سائنٹسٹ ڈاکٹر عارف نے تحقیق کے بعد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر کے حوالے کیے اور یہاں کے پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر حفیظ نے ٹنڈو جام میں ریپ کے سابق چیئرمین کی سربراہی میں وفد کے ہمراہ بیج کسانوں میں تقسیم کیے ۔رفیق سلیمان نے بتایا کہ نئے بیج کی پنجاب کی نسبت سندھ میں بہتر پوزیشن ہے اور 15 کاشتکاروں کویہ بیج فراہم کیے گئے ہیں ، یہ بیج بدین، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، دادو، شکار پور، ٹنڈو جام، جیکب آباد سمیت سندھ کے 8 شہروں کی زمینوں میں لگائے گئے ہیں،یہ بیج ہائی برڈنہیں ہیں اسی لیے فراہم کردہ بیج کسانوں کو دوبارہ خریدنا نہیں پڑے گا بلکہ یہی بیج دوبارہ فصل اگا سکے گا۔ اس بیج سے فصل اگانے میں کھاد، پانی اور پیسٹی سائٹ کا استعمال بھی ہائی برڈکے مقابلے میں کم ہوگا۔ رفیق سلیمان نے بتایا کہ ہم نے جی ایس آر بیج کے حصول میں بھارت کو نفسیاتی شکست دی ہے اور اس بیج کی بنیاد پر ہم فصل بڑھا کر عالمی مارکیٹ میں مزید جگہ حاصل کر کے ایکسپورٹ 4 ارب ڈالر تک پہنچا سکیں گے ۔