رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو بجٹ تجاویز پیش کر دیں


ایران کو چاول برآمد کرنا شروع کردیں تو ایکسپورٹ میں مزید 70فیصد اضافہ ہو جائے گا کسانوں کو جدید بیچ مفت فراہم کیے جائیں تو کاشت میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہوسکتاہے
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو بجٹ تجاویز پیش کر دی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایران کو چاول برآمد کرنا شروع کردیں تو ایکسپورٹ میں مزید 70 فیصد اضافہ ہوجائے گا ، کسانوں کو جدید بیچ مفت فراہم کیے جائیں تو کاشت میں60 سے 70 فیصد اضافہ ہوسکتاہے ۔ تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو بجٹ تجاویز پیش کر دی ہیں ، جن میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت رائس ایکسپورٹرز کی بجٹ تجاویز پر عمل کرے اور ایران کو براہ راست چاول کی برآمدات شروع کرنے کیلئے اقدامات کرے تو چاول کی ایکسپورٹ ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے ۔ رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمود مولوی کے مطابق پاکستان کی چاول کی مجموعی ایکسپورٹ 2 ارب ڈالر کے قریب ہے اور چاول کی پیداوار 65.5 لاکھ ٹن ہے جس میں 35.5 لاکھ ٹن چاول ایکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ محمود مولوی کا کہنا تھا کہ ہماری فی ایکڑ چاول کی پیداوار 60 من ہے جو کہ نہایت کم ہے ، دنیا میں جدید ہائبریڈ hybrid بیج سے چاول کی کاشت کی جارہی ہے جو کہ ہمارے ملک میں صرف 15سے 20 فیصد ہے ۔ حکومت مقامی چھوٹے کسانوں کو جدید بیچ مفت فراہم کرے تو چاول کی کاشت میں60 سے 70 فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ابھی پاکستان سے چاول کی قانونی طریقے سے ایکسپورٹ شروع نہیں ہو سکی ہے ۔ کوئی بھی بینک اس وقت ایران کے لئے ایل سی نہیں کھول رہا ہے جس کی وجہ سے ایران کو چاول براہ راست ایکسپورٹ نہیں کیا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو چاول کی ایکسپورٹ شروع کردی جائے تو ایکسپورٹ میں مزید 70 فیصد اضافہ ہوجائے گا جو ملکی برآمدات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔ محمود مولوی نے بتایا کہ ایران ، متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پاکستانی باسمتی چاول کی بڑی منڈیاں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لانڈھی کراچی میں چاول منڈی قائم کرے ، جس سے اندون سندھ کاشت کار کو چاول کی اچھی رقم ملنے کے علاوہ ایکسپورٹر کو بھی اچھی کوالٹی کا چاول بھی دستیاب ہو سکے گا۔ا نہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور رائس ایکسپورٹرز یورپ ،خلیجی ممالک میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستانی چاول کی برانڈ نگ پر کام کرنا بہت ضروری ہے ۔