پولٹری مافیا بے لگام, گوشت 300 روپے کلو سے زائد پر فروخت


رانی کھیت کی بیماری سے مرغیوں،موروں کی ہلاکت، فارمرز نے نقصان سے بچنے کی خاطر قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا
سندھ کے مختلف اضلاع میں رانی کھیت کی بیماری سے مرغیوں اور مورو کی ہلاکت کے انکشاف کے بعد کراچی کے پولٹری فارمرزبے لگام ہوگئے ،فارمرزنے کسی متوقع نقصان سے بچنے کی خاطر مرغی اور اس کے گوشت کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتے کے دوران سرکاری سطح پرزندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں22روپے اور گوشت کی قیمت میں68روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے حالانکہ کراچی بھر میں مرغی اور اسکا گوشت پہلے ہی سرکاری نرخ سے زائد قیمتوں پر فروخت ہو رہا ہے ۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس وقت شہر میں زندہ مرغی 190روپے کلو اور گوشت 300روپے سے زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے ، ضلعی انتظامیہ کمشنر کراچی وکنٹرولر جنرل پرائسزنے بھی مرغی فروشوں کی جانب سے خود ساختہ اضافے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ،کراچی میں زندہ مرغی اور اسکے گوشت کی قیمتوں کو پر لگ گئے اور قیمتیں یومیہ بنیادوں پر بڑھ رہی ہے ۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایک روز قبل کراچی میں زندہ مرغی کی سرکاری قیمت156روپے تھی جو اس وقت بڑھ کر178روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے ، اسی طرح دو ہفتے قبل 242روپے کلو فروخت ہونیوالا مرغی کا گوشت بڑھ کر276روپے فی کلو ہو گیا ہے ۔مارکیٹ سروے کے مطابق جس تیزی کیساتھ سرکاری سطح پر مرغی اور اسکے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اس قیمت پر شہر میں گوشت کہیں بھی دستیاب نہیں، بتایا جاتا ہے مقامی مارکیٹوں میں زندہ مرغی 190 روپے اور مرغی کا گوشت فی کلو300روپے سے زائد قیمت پر فروخت ہو رہا ہے ۔کمشنر کراچی و کنٹرولر جنرل پرائسز نے بھی پولٹری فارمز کی جانب سے خود ساختہ اضافے کا تاحال نوٹس نہیں لیا ۔ذرائع نے بتایا کہ سابق کمشنر کراچی سید آصف حیدر شاہ نے پولٹری فارمز ایسوسی ایشن کو پابند کیا تھا کہ وہ زندہ مرغی 160 روپے فی کلوسے زائد قیمت پر فروخت سے قبل کنٹرولر جنرل پرائسز کیساتھ اجلاس منعقد کر کے حقیقت پسندانہ جواز پیش کریں گے جس کے بعد ہی انہیں قیمت بڑھانے کی اجازت ہو گی مگر موجودہ کمشنر کراچی نے قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود پولٹری فارمز کیساتھ کوئی اجلاس منعقد کیا اور نہ ہی قیمتوں میں اضافے کا جواز طلب کیا بلکہ سرکاری سطح پر قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔دوسری جانب رانی کھیت بیماری کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ڈسٹرکٹ خیر پور میں نارہ کے مختلف علاقے ،تھر پارکر اور سانگھڑ کے ریگستانی علاقوں اس وقت رانی کھیت بیماری کی لپیٹ میں ہیں جس کی وجہ سے کئی مرغیاں اور مور ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق رانی کھیت ایک ایسی بیماری ہے جو ایک مرغی سے دوسری مرغیوں میں منتقل ہوتی ہے ،اس سلسلے میں ویکسین کردی گئی ہے جس میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔