ایک ہی قسم کے چاول کی کاشت , برآمدات 19 فیصد کمی سے 55.86 کروڑ ڈالر رہیں


جولائی تا نومبر میں حجم 13لا کھ 16ہزار میٹرک ٹن رہا،گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایکسپورٹ 68.33کروڑڈالر تھی بنگلہ دیش ،بھارت،چائنا سمیت ایران نے متعدد چاولوں کی قسمیں متعارف کرائیں ،پیداواری لاگت بھی کم ہے ،ایکسپورٹرز
رواں ما لی سال کے پہلے 5ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران چاول کی ایکسپورٹ میں 19فیصد کمی واقع ہوئی ہے ،محکمہ زراعت نے گز شتہ کئی عرصے سے چاولوں کی قسمیں متعارف کرانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جبکہ ہمسائیہ ممالک متعدد چاولوں کی قسمیں کاشت کرکے مارکیٹ میں متعارف کرارہے ہیں اس لیے پاکستان کی پیداواری لاگت زیادہ جبکہ ہمسائیہ ممالک کی پیداواری لاگت کم ہے جس کے باعث ملکی ایکسپورٹ میں بھی کمی واقع ہورہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق رواں ما لی سال کے پہلے 5ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران چاول کی ایکسپورٹ میں 19فیصد کمی واقع ہوئی ہے ،گز شتہ ما لی سال کے پہلے 5ماہ میں68کروڑ 63لاکھ ڈا لر کے 15لا کھ 46ہزار میٹر ک ٹن چاول ایکسپورٹ کیے گئے تھے جو رواں سال 19فیصد کمی کے ساتھ 55کروڑ 76لا کھ ڈا لر رہ گئے اور انکا مجموعی حجم 13لا کھ 16ہزار میٹرک ٹن رہا۔ ایکسپورٹرز کے مطا بق پا کستان میں گز شتہ کئی سالوں سے ایک ہی قسم کے چاول کی کاشت کی جارہی ہے جس کے باعث ان کی پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے جبکہ ہمسائیہ ممالک بنگلہ دیش ،بھارت اور چائنا سمیت ایران نے متعدد چاولوں کی قسمیں کاشت کرکے مارکیٹ میں متعارف کرائی ہیں جن کی پیداواری لاگت کم ہے اس کے مقابلے میں پاکستان میں محکمہ زراعت نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کے باعث ایکسپورٹ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔