پاکستان میں سمندری حیات کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، رپورٹ


اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈاینڈایگریکلچر آرگنائزیشن نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ پاکستان میں سمندری حیات کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں،مچھلی،جھینگے کا شکار اسی تیزی کے ساتھ جاری رہاتو سمندری حیات کی افزائش رک جائے گی۔منگل کوپاکستان میں سمندری حیات سے متعلق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈاینڈایگریکلچر آرگنائزیشن نے ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں سمندری حیات کا شکار 50 فیصد کم کردیا جائے ، اگرمچھلی،جھینگے کا شکار اسی تیزی سے جاری رہاتو سمندری حیات کی افزائش رک جائے گی۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ شکار کیلئے ممنوعہ جال کے استعمال سے آبی حیات کی زندگی خطرے میں ہے ۔ واضح رہے کہ فشری سیکٹر سے 8لاکھ افراد وابستہ ہیں،سالانہ 9 لاکھ میٹرک ٹن سی فوڈز ہاربرپر لائی جاتی ہیں،سالانہ 3سوملین ڈالر کی ایکسپورٹ ، 50ارب روپے کی سی فوڈز کی پیداوار ہوتی ہے ، سالانہ 28فیصد سمندری حیات پاکستان سے ایکسپورٹ کی جاتی ہیں،سمندری حیات کے شکار میں کمی سے ہزاروں افراد بیروزگار،اربوں روپے نقصان ہوسکتا ہے ۔