کسان پیکیج کے باوجود زرعی صورتحال بہتر نہ ہوسکی،میاں زاہد


کاشتکار بدحال تو ملک کیسے خوشحال ہو گا؟زراعت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے برآمدات، صنعتی ترقی، فوڈ سیکیورٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے شعبے پر توجہ دی جائے
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک بھر اورپنجاب میں زرعی شعبے کو خصوصی توجہ دی جائے تاکہ برآمدات، صنعتی ترقی، فوڈ سیکیورٹی کے مسائل اور غربت میں کمی کی جا سکے ،ملکی برآمدات میں سے 80 فیصد کا تعلق زراعت سے ہے ، تاہم گزشتہ سال وزیر اعظم کی جانب سے 341ارب کے کسان پیکیج کے باوجودزرعی صورتحال بہترنہ ہو سکی اور نہ ہی کاشتکاروں کو کوئی ریلیف ملا،کاشتکار بدحال تو ملک کیسے خوشحال ہو گا۔گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چاول، کپاس اور ٹیکسٹائلزکی برآمدات مسلسل گر رہی ہیں، دھاگے اور کپڑے کی پیداوار میں اضافہ غیر تسلی بخش ہے جبکہ گرتی طلب کے سبب ٹریکٹر سازی کی صنعت کی پیداوار میں 47 فیصد کمی آئی ہے جو پاکستان کی زرعی ترقی کیلئے خطرہ ہے ۔ سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں یوریا کی قیمت عالمی منڈی سے 200روپے فی بوری زیادہ ہے جس کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ کپاس کی فصل کی تباہی نے کاشتکاروں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے اور اگر انہوں نے مناسب مقدار میں کھاد استعمال نہیں کی تو زرعی پیداوار میں کمی آئے گی۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ دنیا کے بہترین نہری نظام کے باوجود زراعت کی بدحالی حیران کن ہے جسے بہتر بنایا جائے ۔