اقتصادی راہداری کے لیے سیاسی عدم اتفاق بڑا خدشہ بن گیا


کراچی: چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے پر سیاسی عدم اتفاق پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہونے والے اس منصوبے کو لاحق سب سے بڑا خدشہ ہے۔

منصوبے کے راستوں اور اسپیشل اکنامک زون پر سیاسی کھینچاتانی کی وجہ سے چین نے اس منصوبے کے لیے ایران کو بطور متبادل دیکھنا شروع کردیا ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ سیاسی اور ملٹری لیڈر شپ نے اس اہم منصوبے کو لاحق تحفظات کے خاتمے کے لیے متفقہ طور پر اس منصوبے کی کلی اور بھرپور سپورٹ کررہے ہیں تاہم سیاسی عدم اتفاق اس منصوبے کے لیے بڑا خدشہ بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے ایران کو بھی اتنی ہی مالیت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کردی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین متبادل کے طور پر ایران کو دیکھ رہا ہے۔ مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات موجود ہیں اور صورتحال میں منصوبے کی مکمل تفصیل ظاہر نہ کرنا بذات خود خدشات کو جنم دے رہا ہے۔

خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال بھی منصوبے پر اثر انداز ہوسکتی ہے جن میں داعش کے خلاف عراق میں جاری معرکہ، شام میں سول وار، سعودی عرب اور ایران کی دیرینہ دشمنی شامل ہیں۔ چین کی معاشی سست روی بھی منصوبے کے لیے ایک خدشہ ہے چینی معیشت میں سست روی کے اثرات عالمی معاشی منظر نامے پر بھی مرتب ہورہے ہیں، عالمی معیشت کی شرح نمو میں کمی کی پیشن گوئیاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے اس منصوبے سے حاصل ہونے والے فوائد پر بھی اثر پڑے گا۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھی منصوبے کے لیے ایک چیلنج ہے، ماضی میں جمہوری حکومتوں کی بساط لپیٹی جاتی رہی ہے اہم موجودہ آرمی چیف کی جانب سے اپنی مدت میں توسیع نہ لینے کے قبل از وقت اعلان کو مثبت پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔چین کی ترجیح روڈ نیٹ ورک اور ریلوے کے نظام کو مضبوط بنانا ہے جبکہ پاکستان اس منصوبے کے ذریعے توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کا خواہش مند ہے، یہ ترجیحات بھی منصوبے پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

منصوبے میں تاخیر کے خدشا ت بھی اپنی جگہ موجود ہیں جبکہ منصوبے میں بدعنوانی اور شفافیت سے متعلق بھی خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں جن کو دور کرنے کیلیے عدلیہ اور میڈیا کے متحرک کردار کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔