اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پنجاب کے شوگر مافیا کو نوازا، سلیم مانڈوی والا


بڑے صوبے کے شوگر ملز کو7ارب سبسڈی اقربا پروری کی بدترین مثال ہے شوگر ملز کے بجائے کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی دی جائے تاکہ بھارت سے درآمد روکی جاسکے
پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پنجاب کے شوگر ملز مالکان کو سات ارب روپے کی نقد سبسڈی فراہم کرکے اقربا پروری کی بد ترین مثال قائم کردی ہے جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سندھ کی شوگر ملز کو سبسڈی فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ اپنے دفتر سے جاری کیے گئے ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی جیسے اہم معاشی پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ صرف ان شوگر ملزمالکان کو 7 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی جنہوں نے کاشتکاروں کو 180 روپے فی من کے حساب سے ادائیگیاں کی ہوں گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یہ فیصلہ پنجاب کے شوگر مافیا کو نوازنے کے لیے کیا ہے ،حکومت نے عوام کی جیبوں سے پیسہ نکال کر اپنے من پسند اور عزیزواقارب میں بانٹ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ معلوم کرسکے کہ کس شوگر مل نے گنے کے کاشتکار کو کب اور کتنی ادائیگی کی ہے ۔سندھ کے شوگر ملز مالکان نے کاشتکاروں کو 160روپے فی من گنے کی قیمت کی ادائیگی بر وقت کی ہے ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکومت شوگر ملوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی فراہم کرے تاکہ پاکستان ہندوستان سے کپاس کی درآمد روک سکے ۔