حکومت چینی کی ایکسپورٹ پر13 روپے کلو سبسڈی دیگی، ملرز


اسلام آباد: شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ رواں سیزن میں 51لاکھ ٹن چینی کی پیداوار متوقع ہے، حکومت کو چاہیے ملک بھر میں ایک جیسی پالیسی کا اعلان کرے تاکہ کاشتکار اور ملز مالکان کو رپریشانی سے بچایا جا سکے۔

شوگر ملرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک سے مجموعی طور پر 6 لاکھ ٹن چینی برآمد بھی کی جاسکتی ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں چینی کی سالانہ کھپت 48 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے جبکہ گزشتہ سیزن کا 3 لاکھ ٹن کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔ چینی کی عالمی قیمت 414 ڈالر فی ٹن ہے جو مقامی چینی کی پیدواری لاگت سے بھی کم ہے اس لیے ملرز کو فی کلو چینی ایکسپورٹ کرنے کے لیے 13 روپے قومی خزانے سے دیے جا رہے ہیں۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ملک میں بیک وقت کئی پالیسیاں چل رہی ہیں، شوگر کے حوالے سے چاروں صوبوں میں ایک جیسی پالیسی اختیار کی جائے تاکہ ملز اور کاشتکاروں کا تحفظ کیا جا سکے۔ کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں حکومت شوگر ملرز کو اتنی مراعات دے رہی ہے وہاں سرکار انہیں کاشت کاروں کو گنے کی فوری ادائیگیاں کرنے کا بھی پابند کرے، پنجاب میں تو گنے کی کم سے کم قیمت 180 روپے فی من طے کی جاچکی ہے تاہم سندھ میں اب تک گنے کی امدادی قیمت طے نہیں ہوسکی۔