شوگر ملز مالکان کا 15روز میں کاشتکاروں کوادائیگی کا حکم چیلنج کرنے کا اعلان


گنے کی ادائیگیاں اور نئے کرشنگ سیزن کا آغاز نہیں کر سکتے ،مرکزی چیئرمین سکندر خان
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملز مالکان بحران کی زد میں ہیں، موجودہ حالات میں کاشتکاروں کو گنے کی ادائیگیاں اور نئے کرشنگ سیزن کا آغاز نہیں کر سکتے ،پنجاب حکومت کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کو 15 دن میں ادائیگیاں کرنے کا حکم کین ایکٹ سے متصادم ہے جسے عدالت میں چیلنج کیا جائیگا۔ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین سکندر خان ، چیئرمین پنجاب جاوید کیانی اور ایگزیکٹو ممبر چو ہدری عبدالوحید نے کہا کہ ملک میں چینی کے وافر اسٹاک موجود ہیں اور آنیوالے کرشنگ سیزن میں بھی چینی کی پیداوار ضرورت سے زائد ہوگی اسلئے حکومت نئے کرشنگ سیزن سے پہلے 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے ۔جاوید کیانی نے کہا کہ پچھلے سیزن میں حکومت کی جانب سے ساڑھے 6 لاکھ ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت ملنے کے باوجود 5 لاکھ 45 ہزار ٹن چینی برآمد کی جا سکی ، دوسری جانب تمام صوبوں میں گنے کا ریٹ یکساں نہ ہونے کے باعث کسانوں کی ادائیگیاں بروقت نہ ہو سکیں جس کی وجہ سے حکومت پنجاب نے پنجاب کی 9 ملوں کو سیل کر دیا حالانکہ ان ملوں نے ٹڈاپ جیسے سرکاری محکمے سے فریٹ سبسڈی کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کرشنگ سیزن میں تمام صوبوں میں گنے کی قیمت یکساں ہونی چاہیے ، عالمی منڈی کے نرخوں کے مطابق پنجاب میں گنے کے نرخ138.7 روپے جبکہ سندھ میں 143.14 روپے بنتے ہیں ۔